کبیرہ گناہوں سے بچنے کی فضیلت


کبیرہ گناہوں سے بچنے کی فضیلت
مفتی ابوصالح محمد قاسم عطاری





ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَآىٕرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ نُدْخِلْكُمْ مُّدْخَلًا كَرِیْمًا(۳۱)
(پ5،النساء:31(

ترجمہ: اگر کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو، جن سے تمہیں منع کیا جاتا ہے تو ہم تمہارے دوسرے گناہ بخش دیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔

تفسیراس آیتِ مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کبیرہ گناہوں سے بچنے والے کے ساتھ وعدہ فرمایا ہے کہ وہ (اپنے فضل و کرم سے)اس کے  دوسرے گناہ بخش دے گا اوراسے عزت کی جگہ داخل کرے گا۔ دوسرے گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں اور عزت کی جگہ سے مراد جنت ہےاورکبیرہ گناہ وہ ہے جس کا مرتکب قراٰن وسنت میں بیان کی گئی کسی خاص سخت وعید کا مستحق ہو۔(الزواجر،ج1، ص12)کبیرہ گناہ کی مزید بھی تعریفات ہیں۔

چالیس گناہوں کی فہرست

یہاں مسلمانوں کے فائدے کیلئے ہم چالیس گناہوں کی ایک فہرست بیان کرتے ہیں جن میں اکثر کبیرہ ہیں تاکہ کم از کم یہ تو علم ہو کہ یہ گناہ ہیں اور ہمیں ان سے بچنا ہے۔ (1)اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ٹھہرانا (2)ریاکاری (3)کینہ (4) حسد (5)تکبّر (6) اور خود پسندی میں مبتلا ہونا(7) تکبّر کی وجہ سے مخلوق کو حقیر جاننا (8)بد گمانی کرنا(9) دھوکہ دینا (10)لالچ (11)حِرْص (12)تنگدستی کی وجہ سے فُقَراء کا مذاق اڑانا (13)تقدیر پر ناراض ہونا (14) گناہ پر خوش ہونا (15)گناہ پر اِصرار کرنا (16)نیکی کرنے پر تعریف کا طلبگار ہونا (17)حیض والی عورت سے صحبت کرنا(18)جان بوجھ کر نماز چھوڑ دینا(19)صف کو سیدھا نہ کرنا (20)نماز میں امام سے سبقت کرنا (21)زکوٰۃ ادا نہ کرنا(22)رَمَضان کا کوئی روزہ چھوڑ دینا (23)قدرت کے باوجود حج نہ کرنا (24)ریشمی لِباس پہننا (25)مرد و عورت کا ایک دوسرے سے مُشَابَہَت اختیار کرنا(26)عورتوں کا باریک لباس پہننا (27)اِترا کر چلنا(28)مصیبت کے وقت چہرہ نوچنا، تھپڑ مارنا یا گریبان چاک کرنا(29)مَقروض کو بِلا وجہ تنگ کرنا (30)سود لینا دینا (31)حرام ذرائع سے روزی کمانا (32)ذخیرہ اَندوزی(33)شراب بنانا، پینا، بیچنا(34)ناپ تول میں کمی کرنا(35)یتیم کا مال کھانا(36) گناہ کے کام میں مال خرچ کرنا(37)مُشْتَرَکہ کاروبار میں ایک شریک کا دوسرے سے خیانت کرنا (38)غیر کے مال پر ظلماً قابض ہو جانا (39)اُجرت دینے میں تاخیر کرنا(40)اور امانت میں خیانت کرنا



یہ چندباطنی اور ظاہری گناہ ذکر کئے ہیں ، ان سب گناہوں کی معلومات حاصل کرنا اور ان کے اَحکام سیکھنا ضروری ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ظاہری باطنی تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

Bahar e Shariat - Shariat ke Masail

Bahar-e-Shariat Mobile Application

Key Features of the App:

This app contains:

• Fundamentals of Islam 
• Basic Beliefs of Islam
• Quranic Ayah
• Ahadith
• Some important Istilahaat (Terminologies)
• Dictionary that helps you in understanding some difficult words
• Advance Search
Moreover through this app, you can also;
• Share the content
• Select and copy a particular Ayah, Hadith or other content.
• Search a topic or word through search bar.

پانی پینے کی سنتیں اور حکمتیں


اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بے شمار نعمتوں  میں  سے پانی ایسی عظیم نعمت ہے کہ جس کے بغیر انسان كا زندہ رہنادُشوار ہے۔اس لیے کیوں  نہ ہم پانی کو  نبیِّ کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعلیمات کے مطابق استعمال کریں  اس سے جہاں  ہماری پیاس بجھے گی وہیں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کرم سےاچھی اچھی نیتوں  اور شريعت پر عمل کا ثواب بھی حاصل ہو گا۔پانی پینےکی اچھی نیتیں عبادت اور کسب ِحلال پر قوت حاصل کروں  گا، بیٹھ کر بِسْمِ اﷲپڑھ کر اُجالے میں  دیکھ کر   تین سانس میں  پیوں  گا، پی چکنے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ  کا شکر کروں  گا،ایک قطرہ پانی بھی ضائع نہیں   کروں  گا۔
پانی پینے کا طریقہ پانی بیٹھ کر،اُجالے میں  دیکھ کر،سیدھے ہاتھ سے بِسْمِ اﷲ پڑھ کر اس طرح پئیں  کہ ہر مرتبہ گلاس منہ سے ہٹاکر سانس لیں ،پہلی  اوردوسری بارایک ایک گھونٹ کر کے پی لیجئےاور تیسری سانس میں  جتنا چاہیں  نوش کیجئے اس طرح پینے سے پیاس بجھ جاتی ہے ،پانی کو چوس کر پیاکیجئے، بڑے بڑے گھونٹ نہ پیئے، جب پی لیں  تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہیں ۔نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم تین سانس میں  پانی پیا کرتے تھے۔اس کی حکمت خود ہی یوں  ارشاد فرمائی:اس طرح پینے میں  زیادہ سیرابی ہوتی ہے اور صحت کے لیے مفید اور خوشگوار بھی ہے۔(مسلم،ص863،حدیث:5287)
حکمت ایک ہی لمبے سانس میں  پینے سے سانس کی آمد ورفت بگڑ سکتی ہے نیز  برتن میں  سانس لینے سے بدبو کی صورت میں  پانی پینے میں  کراہت پیدا ہو جائے گی۔ ایک ہی سانس میں   پانی پینے سے اُچھو لگنے کا خطرہ   بھی بڑھ جاتا ہے۔ اگر سانس لے کر ٹھہر جائیں   پھر پانی پئیں  تو اس کا خطرہ نہیں  رہتا۔تین سانس میں  پانی پینے کاطریقہہرسانس کےشروع میں بِسْمِ اللہ “ اور اخیر میں  ”اَلْحَمْدُلِلّٰہِ“کہئے کہ نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم ہر سانس کےشروع میں ”بسم اللہ“ اور اخیرمیں  ”اَلْحَمْدُلِلّٰہِ“ کہتے تھے۔ (معجم کبیر ،ج10، ص253، حدیث:10475)نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا:پانی تین سانسوں  میں  پیو، پہلا گھونٹ پینے کا شکر، دوسرا پیٹ کے لیے شفا اور تیسرا شیطان کو دور کرنے کے لیے ہے۔ (اس لیے کہ یہ تین گھونٹ ہوئے جو کہ طاق عدد ہے اور طاق عدد اللہ  عَزَّوَجَلَّ کو پسند ہے۔) پانی چوس کر پیو کہ یہ خوراک  کی روانی کا باعث اور خوشگواری اور جلد ہاضمے کا ذریعہ ہے۔(نوادر الاصول،ج 2، ص898، حدیث:1188)  اور بیماری سے بچاؤ ہے۔(کنزالعمال،جزء15،ج 8،ص126، حدیث: 41042) غَٹاغٹ نہ پئیں  کیونکہ اس سے جگر کی بیماری ہوتی ہے“۔ (شعب الایمان،ج5 ، ص115،حدیث:6012)ایک سانس میں   پانی پینے سے زیادہ پیا جاتا ہے، ایک سانس میں  پانی پینا شیطان کا طریقہ ہے اور اس سے جگر کی بیماری پیدا ہوتی ہے۔ (مراٰۃ المناجیح،ج6،ص 70)
پانی دیکھ کر پینےمیں  حکمتپانی میں  کیڑا مکوڑا ہونے کی صورت میں  نقصان پہنچنے کا  قوی اندیشہ ہے۔حکایت:ایک مدنی قافلے میں  جب   اَمیر قافلہ نے بیان کیاکہ پانی اُجالے میں  دیکھ کر پینا چاہئے تو اُس قافلہ میں  موجود ایک اسلامی بھائی نے بتایا:واقعی پانی دیکھ کر  ہی پینا چاہئے کیونکہ ہمارےیہاں  ایک دکانداربغیر دیکھے پانی پینے لگا تو ایک لال بیگ(Cockroach) اُس کے ہونٹ سے جا چمٹا۔ان طریقوں  سے بچئےنبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے اونٹ کی طرح ایک سانس میں  (ترمذی،ج3، ص352، حدیث: 1892) اور کھڑے ہو  کر پا نی پینے سے منع کیا اور فرمایا: اگر کوئی بھول کر ایسا کر لے تو قے کر دے۔(مسلم،ص862، حدیث: 5279) حکمتسائنسی تحقیق کے مطابق ایک ہی سانس میں  کھڑے ہو کر پانی پینے سے پانی جسم میں  جلد ی جذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گردوں  پر گہرا اثر پڑتا ہے اور جسم کے مختلف حصوں  خصوصا پاؤں  پرسوجن  کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جسے (Edema) کہا جاتا ہے۔سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّم نے برتن میں  سانس لینے اور اُس میں  پھونکنے سے منع فرمایا۔(ابوداؤد،ج 3، ص474، حدیث:3728) حکمتبرتن میں  سانس لینے سے اُس میں  جراثیم منتقل ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔نہار منہ زیادہ پانی پینے سے بچئے کہ اس سے بدن کمزور ہوتا ہے(کبھی کبھار تھوڑا سا پانی پی لینا نقصان دہ نہیں )۔ (احیاء العلوم مع اتحاف،ج5، ص686) بعض  لوگ گلاس میں  پینے کے بعد بچا ہوا پانی پھینک دیتے ہیں  یہ  اِسراف ہے حالانکہ منقول ہے کہ مؤمن کے جوٹھے میں  شِفا ہے ۔(الفتاوی الفقہیہ لابن حجر ،ج4، ص117)
اللہ تعالیٰ ہمیں  ہر کام سنّت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

بیٹے کو کیسا ہونا چاہیے؟





اِسلامی تعلیمات سے دور مُعاشَرے جن اَخلاقی پستیوں کا شکار ہیں، ان میں سے ایک ماں باپ کی قدروتعظیم کا فُقدان بھی ہے۔  پیدا ہوتے ہی بیٹے کے ڈاکٹر، انجینیئر، سرکاری آفیسر وغیرہ بننے کے خیالات اور خواب دیکھنے والے ماں باپ اُس وقت قابلِ رحم ہوتے ہیں، جب ان کے پڑھے لکھے (Well Educated) کہلانے والے بیٹے انہیں  ایک کمرے تک محدود رہنے پر مجبور کردیتے ہیں، یا پھر اولڈ ہاؤس کی زینت بنادیتے ہیں۔ توتلی زبان میں آدھی  آدھی باتیں کرنے والے بیٹے کی ساری باتیں سمجھ لینے  والے ماں باپ جب  بڑھاپے میں  ”آپ چپ رہیں، آپکو کیا پتا؟“ جیسے جملے سنتے ہیں، تو ان کا دل کہتا ہے:ہمارے بیٹے کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔قرضداری، تنگ دستی، بےروزگاری جیسی نجانے کتنی  آزمائشوں کا سامنا کرکے ایک سے زائد بچوں کی یکساں پرورش  کرنے والے ماں باپ  کو جب بڑھاپے میں  دو وقت کھانا  بھی’’ مانگنے‘‘ پر ملتا ہے تب وہ کہتے ہیں کہ ہمارے بیٹے کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ دُنیوی ترقی کی دلدادہ اکثریت اپنے بیٹوں کو فقط دنیا سکھاتی اورعلمِ دین سے دُور رکھتی ہے، انہی ماں باپ کو جب بڑھاپے میں یہ بیٹے اپنے لئے بوجھ اور سنبھالنا مصیبت سمجھتے ہیں تو  یہی ماں باپ کہتے ہیں کہ  ہمارے بیٹے کو ایسا نہیں ہونا چاہئے۔بیٹے کو علمِ دین سکھایا ہوتا ،عالِم بنایا ہوتا تو ماں باپ کو شاید ایسا نہ کہنا پڑتا ۔
آخر ”بیٹے کو کیسا ہونا چاہئے؟“آئیے اس سوال کا جواب اسلام سے پوچھتے ہیں۔ اسلام نے اچھےبیٹے کی جو خوبیاں اور ذمہ داریاں بیان کی ہیں  ان میں سے چندملاحطہ فرمائیے ، چنانچہ
٭”بیٹے کو“ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک اور نہایت نرمی سے پیش آنے والا، بوڑھے ماں باپ کو جھڑکنا اورغُصّہ دکھانا تو درکنار اُف تک نہ کہنےوالا، شفقت و مہربانی کرتے ہوئے ان کے سامنے عاجزی  کرنے والا اور اُن کےلئے اللہ ربُّ الْعِزَّت کی بارگاہ سے رحمت طلب کرنے والا ہونا چاہئے۔( ماخوذ اَز: پ 15، بنی اسرائیل: 23تا24)
٭بیٹے کو ماں باپ کی خدمت کے دوران پیش آنے والی ہر طرح کی تکالیف کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنے والا ہونا چاہئے، جیسا کہ ایک صَحابی نے اپنی ماں کو کندھوں پر اٹھائے، سخت گرم پتھروں والے رستے پر چلتے ہوئے چھ میل کا سفر طے کیا، وہ پتھر اتنے گرم تھے کہ اگر گوشت کاٹکڑا اُن پر ڈالا جاتا تو کباب ہوجاتا۔(معجمِ صغیر،ج1، ص92، حدیث: 257، ملخصاً)
٭بیٹے کو دن رات کی پرواہ کئے بغیر والدین کی خدمت مصروف رہنے والا ہونا چاہئے جیسا کہ حضرت سَیِّدُنا بایزید بسطامی رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سخت سرد رات میں ماں کے لئے پانی کا پیالہ لئے ساری رات  کھڑے رہے، یہاں تک کہ پانی بہہ  کر انگلی پر جم گیا اور برتن انگلی سے چمٹ گیا، جب چھڑایا تو انگلی سے جِلد اکھڑنے پر خون بہہ نکلا۔(نزہۃ المجالس،ج1،ص261،ملخصاً)
 ٭بیٹے کو ماں باپ کی ہر  ناگوار بات و ناروا سلوک پر صبر  کرنے والا اور ہر حال میں ماں باپ کو راضی رکھنے کی کوشش کرنے والاہونا چاہئے، جیسا کہ ایک بار رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: جس نے اِس حال میں شام کی کہ ماں باپ کے بارے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کرتا ہے اس کے لئے صبح ہی کو جہنَّم کے دو دروازے کُھل جاتے ہیں تو ایک شخص نے عرض کیا: اگرچِہ ماں باپ اُس پر ظلم کریں۔ فرمایا: اگر چِہ ظلم کریں، اگرچِہ ظلم کریں، اگرچِہ ظلم کریں۔(شُعَبُ الایمان، ج6،  ص206، حدیث: 7916)
٭بیٹے کو ماں باپ کی وفات کے بعد بھی اُن کی عزت و آبرو کی حفاظت، ان کے قرض کی ادائیگی اور اُن کی قسمیں پوری کرنے میں کوشش کرنے والا ہونا چاہئے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: جو شخص اپنے والِدَین کے (انتِقال کے) بعد ان کی قسم سچّی کرے اور ان کا قَرض اُتارے اور کسی کے ماں باپ کو بُرا کہہ کر انہیں بُرا نہ کہلوائے وہ والِدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا لکھا جائے گا اگرچِہ(ان کی زندگی میں) ”نافرمان“ تھا۔(معجمِ اَ وْسَط،ج4، ص232، حدیث: 5819)
٭بیٹے کو خدمت و ضرورت کی وجہ سے بلانے پر فوراً ماں باپ کےپاس حاضر ہوجاناچاہئے یہاں تک کہ اگر پردیس میں ہو تب بھی، چنانچہ بہارِ شریعت میں ہے:”یہ (یعنی بیٹا) پردیس میں ہے، والِدَین اِسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، خط لکھنا کافی نہیں ہے۔ یوہیں والِدَین کو اِس کی خدمت کی حاجت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے۔“(بہارِ شریعت،ج3، ص559)
اللہ تعالیٰ ہر بیٹے کو اِسلامی اوصاف والا بیٹا بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین