کیا پہلی امتوں میں بھی قبر میں سوال و جواب ہوتا تھا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل وضاحت
تعارف
قبر کے سوالات اسلامی عقائد کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ موت کے بعد قبر میں کیا ہوگا، کن سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کیا یہ سوالات صرف امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے مخصوص ہیں یا پہلی امتوں سے بھی کیے جاتے تھے؟ آئیے قرآن، احادیثِ مبارکہ اور جمہور علماء کے موقف کی روشنی میں اس مسئلے کو سمجھتے ہیں۔
قبر کے سوالات برحق ہیں
اہلِ سنت والجماعت کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ قبر میں سوال و جواب ہونا حق ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کے جمہور علماء کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ ہر مکلف مسلمان سے قبر میں سوالات کیے جائیں گے۔
مشہور احادیث کے مطابق میت سے تین بنیادی سوالات کیے جاتے ہیں:
من ربک؟ (تمہارا رب کون ہے؟)
ما دینک؟ (تمہارا دین کیا ہے؟)
ما کنت تقول فی حق ھذا الرجل؟ (اس شخصیت، یعنی حضرت محمد ﷺ، کے بارے میں تم کیا عقیدہ رکھتے تھے؟)
بعض روایات میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مبارک صورت یا جلوہ دکھا کر یہ سوال کیا جائے گا۔
جو مومن دنیا میں ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہا ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے صحیح جواب دے گا، جبکہ بدعمل یا بے ایمان شخص جواب دینے سے عاجز رہے گا۔
کن افراد کو قبر کے سوالات سے استثنا حاصل ہے؟
اگرچہ اصل حکم یہی ہے کہ مسلمانوں سے قبر میں سوالات ہوں گے، لیکن بعض افراد کے بارے میں علماء نے روایات کی بنیاد پر استثنا ذکر کیا ہے، مثلاً:
انبیائے کرام علیہم السلام
بہت کم عمر بچے
مجنون (پاگل) افراد
بعض روایات کے مطابق جمعہ کے دن وفات پانے والے
رمضان المبارک میں وفات پانے والے
حافظِ قرآن
یہ تمام تفصیلات مختلف احادیث اور فقہی کتب میں مذکور ہیں۔
قبر کے سوالات اور عذابِ قبر کا انکار
قبر کے سوالات اور عذابِ قبر دونوں قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔
اسی لیے اہلِ سنت کے نزدیک ان کا انکار گمراہی شمار کیا جاتا ہے۔ قبر میں:
سوال و جواب بھی ہوں گے۔
نیک لوگوں کے لیے نعمتیں ہوں گی۔
گناہگار اور کفار کے لیے عذاب ہوگا۔
اس موضوع پر محدثین نے مستقل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، جن میں امام ابوبکر البیہقی رحمہ اللہ کی مشہور کتاب "اثبات عذاب القبر" نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔
کیا پہلی امتوں سے بھی قبر میں سوالات کیے جاتے تھے؟
یہ اصل سوال ہے۔
جمہور علماء کے مطابق احادیثِ مبارکہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ قبر کے سوالات امتِ محمدیہ ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں قبر میں آزمایا جائے گا اور ان سے سوالات کیے جائیں گے۔
اسی بنا پر علماء کا موقف ہے کہ سابقہ امتوں سے اس نوعیت کے سوالات نہیں کیے جاتے تھے۔
کیا پہلی امتوں کو عذابِ قبر نہیں ہوتا تھا؟
یہ سمجھنا درست نہیں کہ چونکہ ان سے سوالات نہیں ہوتے تھے، اس لیے انہیں عذاب یا ثواب بھی نہیں ملتا تھا۔
بلکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سابقہ امتوں کے لیے بھی قبر میں عذاب اور ثواب کا سلسلہ موجود تھا۔
یہودیوں کے بارے میں
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض یہودی اپنی قبروں میں عذاب دیے جا رہے ہیں۔
فرعون اور اس کی قوم
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے، اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب میں داخل کیا جائے گا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے بھی انہیں برزخی عذاب دیا جا رہا ہے۔
قومِ نوح علیہ السلام
قرآنِ کریم میں قومِ نوح کے انجام کا بھی ذکر موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے بھی برزخی عذاب کا معاملہ موجود تھا۔
خلاصۂ کلام
قرآن، احادیثِ مبارکہ اور جمہور علماء کی آراء کی روشنی میں درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
قبر کے سوالات برحق ہیں۔
ہر مکلف مسلمان سے قبر میں سوالات کیے جائیں گے، سوائے ان افراد کے جن کے بارے میں استثنا وارد ہوا ہے۔
قبر کے سوالات کا انکار اہلِ سنت کے نزدیک گمراہی ہے۔
قبر میں عذاب اور نعمت دونوں برحق ہیں۔
جمہور علماء کے مطابق قبر کے مخصوص سوالات امتِ محمدیہ ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔
البتہ پہلی امتوں کے لیے بھی قبر میں عذاب اور ثواب کا سلسلہ موجود تھا، اگرچہ ان سے یہ مخصوص سوالات نہیں کیے جاتے تھے۔
اختتامیہ
قبر کی زندگی آخرت کی پہلی منزل ہے۔ کامیابی کا انحصار صحیح عقیدہ، ایمانِ کامل اور نیک اعمال پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں ایمان پر ثابت قدم رکھے، قبر کے سوالات میں کامیابی عطا فرمائے، اور ہمیں عذابِ قبر سے محفوظ فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
