Qabar Kay Sawalaat Aur Un Kay Jawabaat



کیا پہلی امتوں میں بھی قبر میں سوال و جواب ہوتا تھا؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل وضاحت

تعارف

قبر کے سوالات اسلامی عقائد کا ایک اہم حصہ ہیں۔ ہر مسلمان کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ موت کے بعد قبر میں کیا ہوگا، کن سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا، اور کیا یہ سوالات صرف امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے مخصوص ہیں یا پہلی امتوں سے بھی کیے جاتے تھے؟ آئیے قرآن، احادیثِ مبارکہ اور جمہور علماء کے موقف کی روشنی میں اس مسئلے کو سمجھتے ہیں۔

قبر کے سوالات برحق ہیں

اہلِ سنت والجماعت کا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ قبر میں سوال و جواب ہونا حق ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کے جمہور علماء کا یہی عقیدہ رہا ہے کہ ہر مکلف مسلمان سے قبر میں سوالات کیے جائیں گے۔

مشہور احادیث کے مطابق میت سے تین بنیادی سوالات کیے جاتے ہیں:

من ربک؟ (تمہارا رب کون ہے؟)

ما دینک؟ (تمہارا دین کیا ہے؟)

ما کنت تقول فی حق ھذا الرجل؟ (اس شخصیت، یعنی حضرت محمد ﷺ، کے بارے میں تم کیا عقیدہ رکھتے تھے؟)

بعض روایات میں ذکر ہے کہ نبی کریم ﷺ کی مبارک صورت یا جلوہ دکھا کر یہ سوال کیا جائے گا۔

جو مومن دنیا میں ایمان اور عملِ صالح پر قائم رہا ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے صحیح جواب دے گا، جبکہ بدعمل یا بے ایمان شخص جواب دینے سے عاجز رہے گا۔

کن افراد کو قبر کے سوالات سے استثنا حاصل ہے؟

اگرچہ اصل حکم یہی ہے کہ مسلمانوں سے قبر میں سوالات ہوں گے، لیکن بعض افراد کے بارے میں علماء نے روایات کی بنیاد پر استثنا ذکر کیا ہے، مثلاً:

انبیائے کرام علیہم السلام

بہت کم عمر بچے

مجنون (پاگل) افراد

بعض روایات کے مطابق جمعہ کے دن وفات پانے والے

رمضان المبارک میں وفات پانے والے

حافظِ قرآن

یہ تمام تفصیلات مختلف احادیث اور فقہی کتب میں مذکور ہیں۔

قبر کے سوالات اور عذابِ قبر کا انکار

قبر کے سوالات اور عذابِ قبر دونوں قرآن و سنت سے ثابت ہیں۔

اسی لیے اہلِ سنت کے نزدیک ان کا انکار گمراہی شمار کیا جاتا ہے۔ قبر میں:

سوال و جواب بھی ہوں گے۔

نیک لوگوں کے لیے نعمتیں ہوں گی۔

گناہگار اور کفار کے لیے عذاب ہوگا۔

اس موضوع پر محدثین نے مستقل کتابیں تصنیف فرمائی ہیں، جن میں امام ابوبکر البیہقی رحمہ اللہ کی مشہور کتاب "اثبات عذاب القبر" نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔

کیا پہلی امتوں سے بھی قبر میں سوالات کیے جاتے تھے؟

یہ اصل سوال ہے۔

جمہور علماء کے مطابق احادیثِ مبارکہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ قبر کے سوالات امتِ محمدیہ ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔

نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں قبر میں آزمایا جائے گا اور ان سے سوالات کیے جائیں گے۔

اسی بنا پر علماء کا موقف ہے کہ سابقہ امتوں سے اس نوعیت کے سوالات نہیں کیے جاتے تھے۔

کیا پہلی امتوں کو عذابِ قبر نہیں ہوتا تھا؟

یہ سمجھنا درست نہیں کہ چونکہ ان سے سوالات نہیں ہوتے تھے، اس لیے انہیں عذاب یا ثواب بھی نہیں ملتا تھا۔

بلکہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ سابقہ امتوں کے لیے بھی قبر میں عذاب اور ثواب کا سلسلہ موجود تھا۔

یہودیوں کے بارے میں صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ بعض یہودی اپنی قبروں میں عذاب دیے جا رہے ہیں۔

فرعون اور اس کی قوم

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کو صبح و شام آگ پر پیش کیا جاتا ہے، اور قیامت کے دن انہیں شدید ترین عذاب میں داخل کیا جائے گا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے بھی انہیں برزخی عذاب دیا جا رہا ہے۔

قومِ نوح علیہ السلام

قرآنِ کریم میں قومِ نوح کے انجام کا بھی ذکر موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے لیے بھی برزخی عذاب کا معاملہ موجود تھا۔

خلاصۂ کلام

قرآن، احادیثِ مبارکہ اور جمہور علماء کی آراء کی روشنی میں درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:

قبر کے سوالات برحق ہیں۔

ہر مکلف مسلمان سے قبر میں سوالات کیے جائیں گے، سوائے ان افراد کے جن کے بارے میں استثنا وارد ہوا ہے۔

قبر کے سوالات کا انکار اہلِ سنت کے نزدیک گمراہی ہے۔

قبر میں عذاب اور نعمت دونوں برحق ہیں۔

جمہور علماء کے مطابق قبر کے مخصوص سوالات امتِ محمدیہ ﷺ کے ساتھ خاص ہیں۔

البتہ پہلی امتوں کے لیے بھی قبر میں عذاب اور ثواب کا سلسلہ موجود تھا، اگرچہ ان سے یہ مخصوص سوالات نہیں کیے جاتے تھے۔

اختتامیہ

قبر کی زندگی آخرت کی پہلی منزل ہے۔ کامیابی کا انحصار صحیح عقیدہ، ایمانِ کامل اور نیک اعمال پر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا میں ایمان پر ثابت قدم رکھے، قبر کے سوالات میں کامیابی عطا فرمائے، اور ہمیں عذابِ قبر سے محفوظ فرمائے۔

آمین یا رب العالمین۔

Pasand Ki Shadi


پسند کی شادی

جب اولاد کو  اپنی پسند کی شادی کرنی ہوتی ہے اور ایسی جگہ شادی کرنی ہوتی ہے کہ جہاں اس کے عشق مجازی کے چکر چل رہے ہوتے ہیں اور وہ ناجائز اور حرام کام کے اندر مبتلا ہوتا ہے.

اب وہ  نکاح کے لیے والدین کو کہتا ہے کہ آپ وہاںمیرانکاح کروا دیں۔ اب والدین والدین ہوتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ میری اولاد کا بھلا کہاں پر ہے تو لہذا وہ وہاں پر نکاح نہیں کرواتے اب یہاں پر لوگوں کو یاد آتا ہے کہ کیا ہمارا کوئی حق نہیں ہے والدین کے اوپر اور ہم کیا پسند کی شادی نہیں کر سکتے ۔

تو یاد رکھیے! اس طرح کی پسند کی شادی کی اسلام کوئی اجازت نہیں دیتا یعنی یہ جو سارے چکر چلتے رہے ہیں یہ سارے ناجائز اورجن سے بچنا آپ پر لازم ہے جو بھی یہ کہے کہ والدین پر ہمارے حقوق نہیں ہیں ذرا اپنے آپ کو اپنے والدین کی  جگہ پر رکھ کے سوچیں کہ جب آپ چھوٹے سے تھے تو اس وقت آپ کی والدہ کس طریقے سے آپ کی گندگی کو صاف کرتی تھیں کس کس تکلیف سے اس نے آپ کو پالا آپ کے والد صاحب آپ کے لیے کتنی محنت کر کے اتنا پال پوس کے آپ کو بڑا کیا اور آج آپ کو جب آپ کی خواہش کے خلاف ایک بات ہو گی تو اب آپ کو یاد آ رہا ہے کہ میں میرا کوئی والدین پر حق نہیں ہے ۔

کل بڑے ہو کر یہی کام اگر آپ کا بیٹا آپ کے ساتھ کرتا ہے تو آپ کیا کہیں گے ؟اسی طرح عورت کو سوچنا چاہیے کہ اگر کل کو میرا بیٹا یا میری بیٹی اس طرح کا معاملہ کرتی ہے تو پھر میں کیا کروں؟

 اس لیے اولاد کے حقوق سے انکار نہیں ہے لیکن اس طرح کے حقوق  کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔یہ جو پسند کی شادیوں کے چکر ہیں عمومی طور پر ناجائز طریقے سے آرہے ہوتے ہیں اور والدین جب منع کرتے ہیں تو والدین ڈھیروں باتیں اپنی اولاد کی بہتری کی دیکھ کر ہی اس کو منع کرتے ہیں لہذا اولادکو چاہیے کہ اپنے والدین کی پیروی کریں ،والدین کی اتباع کریں۔

https://youtu.be/Cog-pnjTC0o


بچے امتحان کی تیاری کیسے کریں؟


عموماً بچّے امتحانات (Exams) کو بہت سنجیدہ لیتے ہیں، بہت  شرارتی بچے بھی امتحانات قریب آتے ہی ساری شوخیاں بُھول کر کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں اور محنتی بچے تو ان دنوں گویا کہ کھانا پینا ہی بھول جاتے ہیں۔ امتحانات کی اہمیت اپنی جگہ لیکن بچوں کی شگفتگی اورخوشیاں بھی اہم ہیں۔ لہٰذا امتحانات کے دنوں میں  والدین کو چاہئے کہ بچّوں کی جسمانی اور  ذہنی نشو و نَما  کا خاص خیال رکھیں۔جہاں تک بات ہے امتحانات کی تیاری کی تو اس معاملے میں بھی سب کچھ ٹیچرز پر ڈال کر خود کو بری الذِمّہ نہ سمجھیں بلکہ امتحانات کی تیاری میں خود بھی بچّوں کی مدد کریں۔ذیل میں چھ ایسے نِکات(Points) پیش کئے جارہے ہیں جن پر عمل کرکے آپ امتحانات کی تیاری میں بچّوں کی مدد کرسکتے ہیں۔
(1)ذہنی سکون و حوصلہ دیں:ہمارےتعلیمی نظام اور معاشرتی رویّے نے امتحانات کے معاملے میں بچوں کو بہت حَسّاس بنا دیا ہے اور امتحانات کے سبب وہ ذہنی دباؤ (Depression) کا شکار بھی ہوجاتے ہیں، ایسی صورتِ حال میں امتحانات کی تیاری کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے لہٰذا آپ کو چاہئے کہ انہیں پُرسکون کریں، حوصلہ دیں اور امتحانات کی تیاری میں درپیش مسائل پر بچّوں سے بات کریں اور انہیں حل کریں، یوں بچّے آپ کی دل چسپی اور تعاوُن کا اِحساس کرنے لگیں گے اور یہی احساس انہیں ذہنی سکون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزید محنت پر اُبھارے گا۔
(2)شیڈول بنائیں:بچّوں کے ساتھ مِل جُل کر اس طرح کا ٹائم ٹیبل بنائیں جس پر وہ بھی آسانی سے عمل کرکےامتحانات کی تیاری کرسکیں اور آپ کے معمولات بھی متأثِّر نہ ہوں نیز حتَّی الْاِمکان صبح کے وقت کو ترجیح دیں۔
 (3)چھٹیوں کی وجہ سے رہ جانے والا کام: بعض اوقات اسکول سے غیر حاضری کی صورت میں بچوں کا کچھ کام ادھورا (نامکمل) رہ جاتا ہے جسے بچّے کسی مجبوری یا غفلت کی وجہ سے پورا نہیں کرپاتے، کوشش کرکے پہلے ان کاموں کو خود یا اپنے بچّے کے ساتھی طالبِ علم (Class fellow) کی کاپی لے کر مکمل کروائیں تاکہ امتحانات کی تیاری میں کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
(4)مضامین کی تقسیم کاری:تمام مضامین (Subjects) کو برابر اہمیت دیں،کسی مضمون کو آسان سمجھ کر اس کی تیاری میں کوتاہی مت کرنے دیں اور اس طرح سے سمجھائیں کہ بیٹا! ممکن ہے کہ جس مضمون کو آپ آسان سمجھ رہے ہو اس کا سوالیہ پرچہ(Question Paper)آپ کی امید کے خلاف ہو اور کمرۂ امتحان(Examination Hall) میں آپ کو پریشان کردے۔ ہاں جن مضامین کو مشکل سمجھا جاتا ہے ان کی تیاری کو اِضافی وقت دیں اور انہیں بار بار دہرائیں تاکہ بعد میں بھول نہ جائیں۔
(5)کتاب کی تقسیم کاری:نصابی کتاب کے تین حصّے کر لیجئے (1)جسے بچّے کے اساتذہ (Teachers) نے اہم قرار دیا ہے (2)جس کے پیپر میں آنے کی امید ہو، ان دو حصوں کی تیاری کرنے کی صورت میں بچّے کے امتحان میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں (3)جس کا پیپر میں آنا بعید (دور) ہو، پہلے دو حصوں کے ساتھ ساتھ اس حصّے کی بھی تیاری کروائی جائے،بعض اوقات اسی کی دہرائی(Repeat)بھی پوزیشن پانے کا سبب بن جاتی ہے۔
(6)یاد کرنے کا انداز:بچّوں کو رٹّا (Cramming) لگوانے سے بچئے، اسباق کو سمجھ کر توجُّہ کے ساتھ پڑھنے اور یاد کرنے کو ان پر لازم کریں نیز اہم پیراگراف کو بِالکل مختصر اور پوائنٹس کی صورت میں لکھوائیں کہ کئی بار سرسری نظر کرنے کی بجائے ایک بار لکھ کر یاد کر لینا زیادہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ لکھتے وقت دماغ حاضر رکھنا پڑتا ہے اور لکھا ہوا سبق دماغ میں نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔
اہم بات:دنیوی امتحانات کی مصروفیت میں اپنے بچوں کو اُخْرَوِی امتحان سے غافل مت ہونے دیں، ان ایّام میں بھی تاکید کرکے انہیں نماز پڑھواتے رہیں،اللہ پاک کی بارگاہ میں دینی و دنیوی ہر امتحان میں کامیابی کی دعا مانگتے رہنے کی ترغیب  بھی دیتے رہیں۔مزید راہ نُمائی حاصل کرنے کے لئے مکتبۃُ المدینہ سے چھپی ہوئی  کتاب ”امتحان کی تیاری کیسے کریں؟“  کا مطالعہ فرمائیں۔

مسلمان کا خون ، مال اور عزت مسلمان پر حرام ہے

مسلمان کا خون ، مال اور عزت مسلمان پر حرام ہے

ہماراپیارا مذہب اسلام ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے چنانچہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ حرمت نشان ہے: کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ دَمُہٗ وَمَالُہٗ وَعِرْضُہٗ یعنی ہر مسلمان کا خون ،مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ۔
(مسلم ، کتاب البر والصلۃ، باب تحریم  ظلم المسلم ۔۔۔الخ،ص ۱۳۸۶،حدیث:۲۵۶۴)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضرت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : کوئی مسلمان کسی مسلمان کا مال بغیر اس کی اجازت نہ لے ، کسی کی آبروریزی نہ کرے ، کسی مسلمان کو ناحق اور ظُلمًا قتل نہ کرے ،کہ یہ سب سخت جُرْم ہیں۔                                           (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۵۳)
مفتی صاحب ایک اور مقام پر لکھتے ہیں: مسلمان کو نہ تو دل میں حقیر جانو ! نہ اُسے حقارت کے الفاظ سے پکارو ! یا بُرے لَقَب سے یاد کرو ! نہ اس کا مذاق بناؤ ! آج ہم میں یہ عیب بہت ہے ، پیشوں ، نسبوں ، یا غربت و اِفلاس کی وجہ سے مسلمان بھائی کو حقیر جانتے ہیں کہ وہ پنجابی ہے ، وہ بنگالی ، وہ سندھی ، وہ سرحدی ، اسلام نے یہ سارے فرق مٹا دیئے۔ شہد کی مکھی مختلف پھولوں کے رس چوس لیتی ہے تو ان کا نام شہد ہوجاتا ہے ۔ مختلف لکڑیوں کو آگ جلادے تو اس کا نام راکھ ہوجاتا ہے ۔ یوں ہی جب حضور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)کا دامن پکڑ لیا تو سب مسلمان ایک ہوگئے ، حبشی ہو یا رُومی!  (مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۵۵۲)







Neki Ki Dawat


اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

کُنۡتُمْ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالْمَعْرُوۡفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنۡکَرِ وَتُؤْمِنُوۡنَ بِاللہِ ؕ

ترجمہ کنزالایمان: تم بہتر ہو ان سب امتوں میں(۱)جولوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کاحکم دیتے ہواور برائی سے منع کرتے ہو(۲)اور اللہ پرایمان رکھتے ہو۔(پ۴،اٰل عمرٰن:۱۱۰)

تفسیر:

    (۱)خیال رہے کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی امت تمام امتوں سے افضل ہے ۔ بنی اسرائیل کا عالمین سے افضل ہونا اس وقت ہی تھا ۔ مگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کی امت کا افضل ہونا دائمی ہے جیسا کہ کُنْتُمْ سے معلوم ہوا ۔یہ بھی معلوم ہواکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی امت تمام عالم کی استاذہے۔
    (۲)اس سے معلوم ہوا کہ ہرمسلمان مبلغ ہوناچاہے۔ جو مسئلہ معلوم ہو دوسرے کو بتائے اور خود اس کی اپنے عمل سے تبلیغ کرے ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور کا ماننا اللہ کا ماننا ہے حضو رصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کا منکر رب عزوجل کا منکر ہے۔ اس لیے فرمایا کہ تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔(تفسیر نور العرفان)

مختصر واقِعه مِعْرَاج




 واقعہ معراج بعثت کے گيارہويں سال اور ہجرت سے دو سال پہلے، 27 رَجَبُ المرجَّب، پير شريف کي سُہاني اور نُور بھري رات  پیش آیا

حضور ﷺ  اپني چچا زاد بہن حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر آرام فرمارہے تھےکہ حضرتِ جبرائيل علیہ السلام حاضِر ہوئے اور آپ ﷺ کو حضرتِ اُمِّ ہاني رَضِيَ اللہُ تَعَالي عَنہَا کے گھر سے مسجِدِ حرام ميں  لے آئے  اور آپ کا  شَقِّ صَدْر فرمايا ، حضرتِ جبرائيل علیہ السلام نے پيارے آقا ﷺکے قلبِ اطہر کو آبِ زَم زَم سے غسل ديا اور پھر ايمان وحکمت سے بھر کر واپس اُس کي جگہ رکھ ديا

بُراق کي سواري

اس کے بعد آپ ﷺ کي بارگاہِ اقدس ميں سواري کے لئے بُراق پيش کيا گيا،پھر سيِّدِ عالَمﷺ بُراق پر سوار ہوئے اور بيت المقدس کي طرف روانہ ہوئے

دورانِ سفرآپ ﷺ نے تين مقامات پر نماز ادا فرمائي

01: مدينہ شريف جس کي طرف  آپ ﷺ ہجرت فرمائيں گے؟
02: طُورِ سِيْنا جہاں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے حضرتِ موسي عَلَيْہِ السلام کو ہَم کلامي کا شَرَف عطا فرمايا تھا
03: بَيْتِ لَحْم : جہاں حضرتِ عيسي عَلَيْہِ السَّلَام کي وِلادت ہوئي تھي

بيت المقدس آمد اورانبيائے کِرَام عَلَيْہِمُ السلام کي امامت

آپ ﷺ راستے ميں  عجائباتِ قدرت کوديکھتے ہوئے، اس مقدس شہر ميں تشريف لے آئے جہاں مسجدِ اقصي واقِع ہےاور پھر مسجد اقصي  ميں انبيائے کِرَام عَلَيْہِمُ السلام کي امامت فرمائي

آسمانوں کي طرف سفر

بيت المقدس کے مُعَامَلات سے فارِغ ہونے کے بعد پيارے پيارے آقا، ميٹھے ميٹھے مصطفےﷺ نے آسمان کي طرف سفر شروع فرمايا

 پہلے آسمان پر حضرتِ آدم عَلَيْہِ السلام سے  ملاقات ہوئي ؟

دوسرے آسمان: پر آپ ﷺ کي حضرتِ يحيي  اور حضرتِ عيسي عَلَيْہِمَا السلام سے  ملاقات ہوئي ؟

تيسرے آسمان: پر آپ ﷺ کي حضرتِ یوسف عَلَيْہ السلام سے  ملاقات ہوئي

چوتھے آسمان : پر آپ ﷺ کي حضرتِ اِدْرِيس عَلَيْہ السلام سے  ملاقات ہوئي

پانچويں آسمان: پر آپ ﷺ کي حضرتِ ہارون عَلَيْہ السلام سے  ملاقات ہوئي

چھٹے آسمان: پر آپ ﷺ کي حضرتِ موسي عَلَيْہِمُ السلام سے  ملاقات ہوئي

ساتويں آسمان: پر آپ ﷺ کي حضرتِ ابراہيم خَلِيْلُ اللہ عَلَيْہِمُ السلام سے  ملاقات ہوئي

سدرۃ المنتہیٰ

ساتویں آسمان پر حضرتِ ابراہیم خَلِیْلُ اللہ علیہ السلام سے ملاقات فرمانے کے بعد سیِّدِ والا تبار، دوعالَم کے تاجدار ﷺ سِدْرَۃُ المنتہیٰ کے پاس تشریف لائے۔یہ ایک نورانی بیری کادرخت ہے، جس کی جڑ چھٹے آسمان پر اور شاخیں ساتویں آسمان کے اُوپر ہیں

مقامِ مستویٰ

جب پیارے آقا، میٹھے مصطفےٰ ﷺ سِدْرَۃُ المنتہیٰ سے آگے بڑھے تو حضرتِ جبرائیل علیہ السلام وہیں ٹھہر گئے اور آگے جانے سے مَعْذِرَت خواہ ہوئے۔پھر آپ ﷺ آگے بڑھے اور بلندی کی طرف سفر فرماتے ہوئے ایک مقام پر تشریف لائے جسے مستویٰ کہا جاتا ہے۔

عرشِ عُلیٰ سے بھی اُوپر

پھر مستویٰ سے آگے بڑھے تو عرش آیا، آپ ﷺ اس سے بھی اُوپر تشریف لائے اور پھر وہاں پہنچے جہاں خُود ” کہاں“ اور ” کب“ بھی ختم ہو چکے تھے کیونکہ یہ الفاظ جگہ اور زمانے کے لئے بولے جاتے ہیں اور جہاں ہمارے حُضُورِ انور ﷺ رونق اَفْرَوز ہوئے وہاں جگہ تھی نہ  زمانہ۔ اسی وجہ سے اسے لامکاں کہا جاتا ہے۔

یہاں اللہ رَبُّ الْعِزّت عَزَّ وَجَلَّ نے اپنے پیارے محبوب ﷺ کو وہ قربِ خاص عطا فرمایا کہ نہ کسی کو مِلا نہ ملے۔

دیدارِ الٰہی اور ہَم کَلامی کا شَرَف

آپﷺ نے بیداری کی حالت میں سر کی آنکھوں سے اپنے پیارے ربّ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی کا دیدار کیا کہ پَردہ تھا نہ کوئی حجاب، زمانہ تھا نہ کوئی مکان، فِرِشتہ تھا نہ کوئی اِنسان، اور بےواسطہ کلام کا شَرَف بھی حاصِل کیا۔

پچاس سے پانچ نمازیں

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے اپنے محبوب ﷺ کو ہر دِن رات 50 نمازوں کا تحفہ (بھی) عَطا فرمایا۔ (پھر اس کے بعد حضرت موسی علیہ السلام سے ملاقات اور پھر دوبار رب کی بارگاہ میں جانا اور نمازوں کا 50 سے 5 ہوجانے کا واقعہ پیش آیا)

جنت کی سیر  اور جہنّم کا مُعَایَنہ

پھر آپ ﷺکو جنت میں لایا گیا اور آپ نے جنت کی سیر فرمائی اور اس میں وہ نعمتیں دیکھیں جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دِل میں اس کا خَیَال گزرا، جنت کی سیر کے بعد آپ ﷺکو جہنّم کا مُعَاینہ کرایا گیا، وہ اس طرح  کہ آپﷺجنت میں ہی موجود تھے اور جہنّم پر سے پَردہ ہٹا دیا گیا جس سے آپ ﷺنے اُسے مُلاحظہ فرما لیا۔

واپسی کا سفر

اس کے بعد واپسی کا سفر شروع ہوا میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  کی قدرت ہے کہ اس نے رات کے مختصر سے حصے میں اپنے پیارے محبوب علیہ السلام کو بیت المقدس اور پھر ساتوں آسمانوں نیز عرش وکرسی سے بھی اُوپر لامکاں کی سیر کرائی، بعض نادان جو ہر بات کو عقل کے ترازو پر تولنے کے عادِی ہوتے ہیں ایسے مُعَاملات میں بھی اپنی ناقص عقل کو دخل دیتے ہیں

یاد رکھئے! اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  قادِرِ مطلق ہے، وہ ہر شے پر قادِر ہے۔ یہ زمین وآسمان، یہ پہاڑ وسمندر، یہ چاند وسورج، یہ فاصلے اور یہ سفر کی منزلیں سب کچھ اُسی کا پیدا کیا ہوا ہے، وہ جس کے لئے چاہے فاصلے سمیٹ دے اور جس کے لئے چاہے بڑھا دے، عقلیں اس کا اِحَاطہ کرنے سے قاصِر ہیں

صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ کی تصدیق

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جب سرکارِ ﷺ نے لوگوں کو واقعہ مِعْرَاج کی خبر دی تو عقل پرست کُفّار ومُشْرِکین کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ کوئی شخص رات کے مختصر سے حصّے میں بیت المقدس کی سیر کیسے کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں اُنہوں آپ ﷺکی تکذیب کی آپ ﷺ کے سفرِ مِعْرَاج کا اِعْلان فرمانے پر بعض لوگ دوڑتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر صِدِّیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُ کے پاس پہنچے اور کہنے لگے: کیا آپ اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں جو آپ کے دوست (حضرت محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم)نے کہی، تو بغیر کسی تذبذب اور ہچکچاہٹ کے فوراً پیارے آقا ﷺ کی تصدیق کر دی، اس کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عنہ صِدِّیق مشہور ہو گئے۔

(خلاصہ از فیضان معراج)

(  منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی)

مالدار تاجر سب خیرات کر کے نئے شہر میں کیوں رہنے لگا ؟



     اِہل دمشق میں سے ایک شخص تھاجس کا نام ابوعبدالرب تھااور وہ پورے دمشق میں سب سے زیادہ مالدار تھا۔ ایک مرتبہ وہ سفر پر نکلاتو اسے ایک نہر کے کنارے کسی چراگاہ میں رات ہوگئی چنانچہ اس نے وہیں پڑا ؤ ڈال دیا۔ اسے چراگاہ کی ایک جانب سے ایک آواز سنائی دی کہ کوئی کثرت سے اللہ عزوجل کی تعریف کررہاتھا ۔وہ شخص اس آواز کی تلاش میں نکلا تو دیکھا کہ ایک شخص چٹا ئی میں لپٹا ہوا ہے۔ اس نے اس شخص کوسلام کیا اور اس سے پوچھا کہ ''تم کون ہو؟'' تو اس شخص نے کہا: ''ایک مسلمان ہوں۔'' اس دمشقی نے اس سے پوچھا :''یہ کیا حالت بنارکھی ہے ۔'' تو اس نے جواب دیا :''یہ نعمت ہے جس کا شکر ادا کرنا مجھ پر واجب ہے۔'' دمشقی نے کہا:''تم چٹائی میں لپٹے ہوئے ہو یہ کونسی نعمت ہے؟'' اس نے کہا :''اللہ تعالیٰ نے مجھے پیدا فرمایا تو میری تخلیق کواچھا کیا اور میری پیدائش وپرورش کو اسلام میں رکھا اور میرے اعضاء کو تندرست کیا اور جن چیزوں کا ذکر مجھے ناپسندہے انہیں چھپایا تو اس سے بڑھ کر نعمت میں کون ہوگا  ۔۔۔؟''
    
وہ دمشقی کہتا ہے کہ میں نے ان سے کہا: ''اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، آپ میرے ساتھ چلنا پسند فرمائیں گے، ہم یہیں آپ کے برابر نہر کے کنارے ٹھہرے ہوئے ہیں ؟''اس شخص نے کہا : ''وہ کیوں ؟'' میں نے کہا :''اس لئے کہ آپ کچھ کھانا وغیرہ کھالیں اور ہم آپ کی خدمت میں کچھ ایسی چیز یں پیش کریں جو آپ کو چٹائی میں لپٹنے سے بے نیاز کردیں۔'' اس نے کہا :''مجھے ان چیز وں کی حاجت نہیں۔'' یہ کہہ کر اس نے میرے ساتھ چلنے سے انکار کردیا اور میں واپس لوٹ آیا ۔

 (اس کی باتیں سننے کے بعد)میرے نزدیک اپنے آپ کی کوئی حیثیت نہ رہی ۔ میں نے (اپنے دل میں)کہا :'' میں نے دمشق میں اپنے سے زیادہ مالدار کوئی نہیں دیکھا پھر بھی میں مزید کی تلاش میں ہوں۔''پھر میں نے بارگاہِ خداوندی عزوجل میں عرض کی : ''اے اللہ عزوجل ! میں تیری بارگاہ میں اپنے اس حال سے تو بہ کرتا ہوں ۔''یوں میں نے توبہ کرلی اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی ۔
  
   جب صبح ہوئی تولوگوں نے سفر کی تیاری شروع کی اور میری سواری میرے پاس لے آئے تومیں نے یہ سوچ کراس کا رخ دمشق کی جانب پھیر دیا کہ اگر میں دوبارہ تجارت میں مصروف ہوگیا تومیں تو بہ میں سچا نہیں۔ میری قوم نے اس تبدیلی کی وجہ پوچھی تومیں نے انہیں اپنی تو بہ کے بارے میں بتادیا ،انہوں نے مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لئے اصرار کیا مگر میں نے انکار کردیا۔
   
راوی کہتے ہیں کہ دمشق پہنچنے کے بعداس شخص نے اپنا مال راہِ خدا عزوجل میں صدقہ کردیا اور عبادت میں مصروف ہوگیا۔ جب اس کا انتقال ہوا تو اس کے پاس کفن کی قیمت کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..ا ور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم

(آنسؤوں کا دریا ، ص :211 ، مدینہ لائبریری ، دعوت اسلامی مختصرا)

)منجانب : سوشل میڈیا ، دعوت ِ اسلامی(